مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. مُسْنَدُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 14980
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَوْمٍ فِي مَجْلِسٍ يَسُلُّونَ سَيْفًا يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ، غَيْرَ مَغْمُودٍ، فَقَالَ:" أَلَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَذَا؟ فَإِذَا سَلَّ أَحَدُكُمْ السَّيْفَ، فَلْيُغْمِدْهُ ثُمَّ لِيُعْطِهِ أَخَاهُ"۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد میں ایک جماعت پر گزر ہوا جنہوں نے تلواریں سونت رکھی تھیں اور ایک دوسرے سے انہیں نیام میں ڈالے بغیر ہی تبادلہ کر رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا کرنے سے سختی سے منع نہیں کیا تھا جب تم تلواریں سونتے ہوئے تو نیام میں ڈال کر ایک دوسرے کو دیا کر و۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 14980]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، فإن سليمان بن موسي الأشدق لم يسمع من جابر، لكن تابعه أبو الزبير كما فى الحديث الآتي بعدہ
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 14980 in Urdu
سليمان بن موسى القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري