مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
194. حديث حبة وسواء ابني خالد رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 15856
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَلَّامٍ أَبِي شُرَحْبِيلَ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبَّةَ وَسَوَاءَ ابني خالد يقولان: أتينا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَعْمَلُ عَمَلًا، أَوْ يَبْنِي بِنَاءً، فَأَعَنَّاهُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا لَنَا، وَقَالَ:" لَا تَأْيَسَا مِنَ الْخَيْرِ مَا تَهَزَّزَتْ رُءُوسُكُمَا، إِنَّ الْإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ أَحْمَرَ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرَةٌ، ثُمَّ يُعْطِيهِ اللَّهُ وَيَرْزُقُهُ".
سیدنا حبہ اور سواء جو خالد کے بیٹے ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کوئی چیز ٹھیک کر رہے تھے لیکن اس نے آپ کو تھکا دیا آپ نے ہم سے فرمایا کہ جب تک تمہارے سرحرکت کر سکتے ہیں کبھی بھی رزق سے مایوس نہ ہو نا کیونکہ انسان کو اس کی ماں جنم دیتی ہے تو وہ چوزے کی طرح ہوتا ہے جس پر کوئی چھلکا نہیں ہوتا اس کے بعد اللہ اسے رزق عطا فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 15856]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
الرواة الحديث:
حبة بن خالد العامري ← سواء بن خالد