مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
263. حَدِيثُ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ مِنْ الشَّامِيِّينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 16015
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَعْظَمَ الْفِرْيَةِ ثَلَاثٌ: أَنْ يَفْتَرِيَ الرَّجُلُ عَلَى عَيْنَيْهِ، يَقُولُ: رَأَيْتُ وَلَمْ يَرَ، وَأَنْ يَفْتَرِيَ عَلَى وَالِدَيْهِ يُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَأَنْ يَقُولَ: قَدْ سَمِعْتُ وَلَمْ يَسْمَعْ".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے عظیم بہتان تین باتیں ہیں ایک تو یہ کہ آدمی اپنی آنکھوں پر بہتان باندھے اور کہے کہ میں نے اس طرح دیکھا ہے حالانکہ اس نے دیکھا نہ ہو دوسرا یہ کہ آدمی اپنے والدین پر بہتان باندھے اور اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کر ے اور تیسرایہ کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اس نے مجھ سے کوئی بات سنی ہے حالانکہ اس نے مجھ سے وہ بات نہ سنی ہو۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16015]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 16015 in Urdu
ربيعة بن يزيد الإيادي ← واثلة بن الأسقع الليثي