مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
263. حَدِيثُ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ مِنْ الشَّامِيِّينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 16004
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْخَوْلَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ: عَتِيقَهَا، وَلَقِيطَهَا، وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَلَيْهِ".
سیدنا واثلہ بن اسقع سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت تین طرح کی میراث حاصل کر تی ہے ایک اپنے آزاد کر دہ غلام کی ایک گرے پڑے بچے کی اور ایک اس بچے کی جس کی خاطر اس نے لعان کیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16004]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عمر بن رؤبة
حدیث نمبر: 16005
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَيَّانَ ، قَالَ: جَاءَ وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ وَنَحْنُ نَبْنِي مَسْجِدَنَا، قَالَ: فَوَقَفَ عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُصَلَّى فِيهِ، بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ فِي الْجَنَّةِ أَفْضَلَ مِنْهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ هَيْثَمِ بْنِ خَارِجَةَ.
بشر بن حیان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے پاس سیدنا واثلہ بن اسقع تشریف لائے اس وقت ہم اپنی مسجد تعمیر کر رہے تھے وہ ہمارے پاس آ کر کھڑے ہوئے سلام کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی مسجد تعمیر کر ے جس میں نماز پڑھی جائے اللہ جنت میں اس کے لئے اس سے بہترین گھر تعمیر فرمادیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16005]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحسن بن يحيى الخشني، ولجهالة بشر بن حيان
حدیث نمبر: 16006
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ وَاثِلَةَ يَعْنِي ابْنَ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: كُنْتُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِقُرْصٍ، فَكَسَرَهُ فِي الْقَصْعَةِ، وَصَنَعَ فِيهَا مَاءً سُخْنًا، ثُمَّ صَنَعَ فِيهَا وَدَكًا، ثُمَّ سَفْسَفَهَا، ثُمَّ لَبَّقَهَا، ثُمَّ صَعْنَبَهَا، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبْ فَأْتِنِي بِعَشَرَةٍ أَنْتَ عَاشِرُهُمْ"، فَجِئْتُ بِهِمْ، فَقَالَ:" كُلُوا، وَكُلُوا مِنْ أَسْفَلِهَا، وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ أَعْلَاهَا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا"، فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا.
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ میں اصحاب صفہ میں سے تھا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روٹی منگوائی پیالے میں رکھ کر اس کے ٹکڑے کئے ان میں پہلے رکھا ہوا پانی ڈالا پھر وہ پانی اس میں ملا کر اسے ہلانے لگے پھر اسے نرم کر کے فرمایا: جاؤ دس آدمیوں کو میرے پاس لاؤ جن میں سے دسویں تم خود ہو گے میں بلالایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور نیچے سے کھانا اوپر سے نہ کھانا کیونکہ اوپر کے حصے میں برکت نازل ہو تی ہے چنانچہ ان سب نے وہ کھانا کھایا اور سیراب ہو گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16006]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 16007
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيَّ".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے مسواک کا اس کثرت سے حکم دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہو نے لگا کہ کہیں یہ مجھ پر فرض ہی نہ ہو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16007]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 16008
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَعْظَمَ الْفِرَى ثَلَاثَةٌ: أَنْ يَفْتَرِيَ الرَّجُلُ عَلَى عَيْنَيْهِ يَقُولُ: رَأَيْتُ وَلَمْ يَرَ، وَأَنْ يَفْتَرِيَ عَلَى وَالِدَيْهِ، فَيُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ يَقُولُ: سَمِعَنِي، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنِّي".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے عظیم بہتان تین باتیں ہیں ایک تو یہ کہ آدمی اپنی آنکھوں پر بہتان باندھے اور کہے کہ میں نے اس طرح دیکھا ہے حالانکہ اس نے دیکھا نہ ہو دوسرا یہ کہ آدمی اپنے والدین پر بہتان باندھے اور اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کر ے اور تیسرایہ کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اس نے مجھ سے کوئی بات سنی ہے حالانکہ اس نے مجھ سے وہ بات نہ سنی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16008]
حکم دارالسلام: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 16009
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو فَضَالَةَ الْفَرَجُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ " يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَبَزَقَ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ عَرَكَهَا بِرِجْلِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: أَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْزُقُ فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
ابوسعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دمشق کی مسجد میں سیدنا واثلہ کو نماز پڑھنے کے دوران دیکھا کہ انہوں نے بائیں پاؤں نیچے تھوک پھینکا اور اپنے پاؤں سے اسے مسل دیا جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا: کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں پھر بھی مسجد میں تھوک پھینکتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16009]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى فضالة، ولجهالة أبى سعد
حدیث نمبر: 16010
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَاثَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ صَاحِبًا لَنَا قَدْ أَوْجَبَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَعْتِقْ رَقَبَةً مُسْلِمَةً يَفُكَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ بنوسلیم کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی نے اپنے اوپر کسی شخص کو قتل کر کے جہنم کی آگ کو واجب کر لیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ایک غلام آزاد کرنا چاہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16010]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، إبراهيم بن أبى عبلة لم يسمع هذا الحديث من واثلة ابن الأسقع، بينهما الغريف الديلمي، والغريف مجهول
حدیث نمبر: 16011
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحِمْصِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْحِمْصِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيُّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ: عَتِيقَهَا، وَلَقِيطَهَا، وَوَلَدَهَا الَّذِي تُلَاعِنُ عَلَيْهِ".
سیدنا واثلہ بن اسقع سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت تین طرح کی میراث حاصل کر تی ہے ایک اپنے آزاد کر دہ غلام کی، ایک گرے پڑے بچے کی اور ایک اس بچے کی جس کی خاطر اس نے لعان کیا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16011]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عمر بن رؤبة، وفيه بقية بن الوليد مدلس تدليس التسوية
حدیث نمبر: 16012
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنِ الْغَرِيفِ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ: أَتَيْنَا وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيَّ ، فقلنا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أَوْجَبَ، فَقَالَ:" أَعْتِقُوا عَنْهُ، يُعْتِقْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ".
سیدنا واثلہ سے مروی ہے کہ بنوسلیم کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی نے اپنے اوپر کسی شخص کو قتل کر کے جہنم کی آگ کو واجب کر لیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ایک غلام آزاد کرنا چاہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16012]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال الغريف الديلمي
حدیث نمبر: 16013
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنْ يَزِيْدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سِبَاعٍ ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ نَاقَةً مِنْ دَارِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، فَلَمَّا خَرَجْتُ بِهَا أَدْرَكَنَا وَاثِلَةُ وَهُوَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، فَقَالَ: يَا عَبَد اللَّهِ اشْتَرَيْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: هَلْ بَيَّنَ لَكَ مَا فِيهَا؟ قُلْتُ: وَمَا فِيهَا؟ قَالَ: إِنَّهَا لَسَمِينَةٌ ظَاهِرَةُ الصِّحَّةِ! قَالَ: فَقَالَ أَرَدْتَ بِهَا سَفَرًا أَمْ أَرَدْتَ بِهَا لَحْمًا؟ قُلْتُ: بَلْ أَرَدْتُ عَلَيْهَا الْحَجَّ , قَالَ: فَإِنَّ بِخُفِّهَا نَقْبًا , قَالَ: فَقَالَ صَاحِبُهَا: أَصْلَحَكَ اللَّهُ مَا تُرِيدَ إِلى هَذَا تُفْسِدُ عَلَيَّ؟! قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَبِيعُ شَيْئًا إِلَّا يُبَيِّنُ مَا فِيهِ، وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ يَعْلَمُ ذَلِكَ إِلَّا يُبَيِّنُهُ".
ابوسباع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا واثلہ کے گھر سے ایک اونٹنی خریدی میں جب اس اونٹنی کو لے کر نکلنے لگا تو مجھے سیدنا واثلہ مل گئے وہ اپنی چادر کھینچتے ہوئے چلے آ رہے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ بندہ اللہ کیا تم نے اسے خرید لیا ہے میں نے کہا جی ہاں انہوں نے پوچھا: کیا انہوں نے تمہیں اس کے متعلق سب کچھ بتادیا ہے میں نے کہا کہ سب کچھ سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ خوب صحت مند جو نظر بھی آرہا ہے یہ بتاؤ تم اس پر سفر کرنا چاہتے ہو یا ذبح کر کے گوشت حاصل کرنا چاہتے ہو میں نے عرض کیا: میں اس پر حج کے لئے جانا چاہتا ہوں وہ کہنے لگے کہ پھر اس کے کھر میں ایک سوراخ ہے اس پر اونٹنی کا مالک کہنے لگا اللہ آپ کے حال پر رحم کر ے کیا آپ میرا سوداخراب کرنا چاہتے ہیں انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کسی آدمی کے لئے یہ بات جائز نہیں کہ وہ کسی چیز کو بیچے اور اس میں عیب نہ کر ے اور جو اس عیب کو جانتا ہواس کے لئے بھی حلال نہیں ہے کہ اسے بیان نہ کر ے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16013]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى سباع