مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
289. حديث أم سليمان بن عمرو بن الأحوص رضي الله عنها
حدیث نمبر: 16087
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ، وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلَا يُصِيبُ بَعْضُكُمْ، وَإِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ" , فَرَمَى بِسَبْعٍ، وَلَمْ يَقِفْ، وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ.
سیدنا ام سلیمان بن احوص سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکر یاں مارتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگوں ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا، ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور جب جمرات کی رمی کر و تو اسے کے لئے ٹھیکر ی کی کنکر یاں استعمال کر و پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات کنکر یاں ماریں اور وہاں رکے نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی تھا جو آپ کے لئے آڑ کا کام کرتا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے تو لوگوں نے بتایا کہ یہ فضل بن عباس ہیں۔ [مسند احمد/مسند المكيين/حدیث: 16087]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد، ولجهالة حال سليمان
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم جندب الأزدية، أم جندب | صحابي | |
👤←👥سليمان بن عمرو الجشمي سليمان بن عمرو الجشمي ← أم جندب الأزدية | مقبول | |
👤←👥يزيد بن أبي زياد الهاشمي، أبو عبد الله يزيد بن أبي زياد الهاشمي ← سليمان بن عمرو الجشمي | ضعيف الحديث | |
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن محمد بن الفضيل الضبي ← يزيد بن أبي زياد الهاشمي | صدوق عارف رمي بالتشيع |
Musnad Ahmad Hadith 16087 in Urdu
سليمان بن عمرو الجشمي ← أم جندب الأزدية