مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
298. حديث عروة بن مضرس بن اوس بن حارثة بن لام رضي الله تعالى عنه ...
حدیث نمبر: 16209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ أَنَّهُ حَجَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُدْرِكْ النَّاسَ إِلَّا لَيْلًا وَهُوَ بِجَمْعٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَرَفَاتٍ، فَأَفَاضَ مِنْهَا، ثُمَّ رَجَعَ، فَأَتَى جَمْعًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتْعَبْتُ نَفْسِي وَأَنْصَبْتُ رَاحِلَتِي، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟، فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِجَمْعٍ، وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ، وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ، وَقَضَى تَفَثَهُ".
سیدنا عروہ بن مضرس سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوا اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بنوطی کے دو پہاڑوں کے درمیان سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں میں نے اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو تھکا دیا اور اپنی سواری کو مشقت میں ڈال دیا ہے واللہ میں نے ریت کا کوئی ایسا لمبا ٹکڑا نہیں چھوڑا جہاں میں ٹھہرا نہ ہوں کیا میرا حج قبول ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ہمارے ساتھ آج فجر کی نماز میں شرکت کی اور ہمارے ساتھ وقوف کر لیا یہاں تک کہ وہ واپس منیٰ کی طرف چلا گیا اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں وقوف عرفات کر چکا تھا تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس کی محنت وصولی ہو گئی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16209]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عامر الشعبي ← عروة بن مضرس الطائي