الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل رضي الله عنه
حدیث نمبر: 1647
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنِي مِسْعَرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ أُرَاهُ، قَالَ:" قَدْ يَذْهَبُ فِيهَا النَّاسُ أَسْرَعَ ذَهَابٍ"، قَالَ: فَقِيلَ: أَكُلُّهُمْ هَالِكٌ أَمْ بَعْضُهُمْ، قَالَ:" حَسْبُهُمْ، أَوْ بِحَسْبِهِمْ الْقَتْلُ".
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان فتنوں کا ذکر فرمایا جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح چھا جائیں گے، اور لوگ اس میں بڑی تیزی سے دنیا سے جانے لگیں گے، کسی نے پوچھا کہ کیا یہ سب ہلاک ہوں گے یا بعض؟ فرمایا: ”قتل کے اعتبار سے ان کا معاملہ ہو گا۔“ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1647]
حکم دارالسلام: إسناده حسن.
الرواة الحديث:
عبد الله بن ظالم التميمي ← سعيد بن زيد القرشي