مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. مسند سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل رضي الله عنه
حدیث نمبر: 1651
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ لُقْمَانَ كَانَ يَقُولُ: يَا بُنَيَّ، لَا تَعَلَّمْ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ تُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، وَتُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ , فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: حَدَّثَنَا نَوْفَلُ بْنُ مُسَاحِقٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ , قَالَ:" مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الِاسْتِطَالَةُ فِي عِرْضِ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَإِنَّ هَذِهِ الرَّحِمَ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، فَمَنْ قَطَعَهَا، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ".
عبداللہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھے حضرت لقمان علیہ السلام کا یہ قول معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا: بیٹے! علم اس لئے حاصل نہ کرو کہ اس کے ذریعے علماء پر فخر کرو اور جہلاء اور بیوقوفوں سے جھگڑتے پھرو، اور محفلوں میں اپنے آپ کو نمایاں کرنے لگو۔ پھر انہوں نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سب سے بڑا سود یہ ہے کہ ناحق کسی مسلمان کی عزت پر دست درازی کی جائے، رحم (قرابت داری) رحمٰن کی شاخ ہے، جو شخص قرابت داری ختم کرے گا، اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا۔“ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1651]
حکم دارالسلام: قول لقمان بلاغ، فهو منقطع، وأما القسم المرفوع، فإسناده صحيح.
الرواة الحديث:
نوفل بن مساحق العامري ← سعيد بن زيد القرشي