مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
342. وقال أبو النضر فى حديثه : ابن راعي العير من أشجع
حدیث نمبر: 16514
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ ، فَقُلْتُ:" يَا أَبَا مُسْلِمٍ، مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ؟، قَالَ: هَذِهِ ضَرْبَةٌ أَصَابَتُهَا يَوْمَ خَيْبَرَ، قَالَ: يَوْمَ أُصِبْتُهَا قَالَ النَّاسُ: أُصِيبَ سَلَمَةُ، فَأُتِيَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ، فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ".
یزید بن ابوعبید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع کی پنڈلی میں ضرب کا ایک نشان دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابومسلم! یہ نشان کیسا ہے، انہوں نے بتایا کہ مجھے یہ ضرب غزوہ خیبر کے موقع پر لگی تھی، جب مجھے یہ ضرب لگی تو لوگ کہنے لگے کہ سلمہ تو گئے، لیکن پھر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر تین مرتبہ پھونک ماری اور اب تک مجھے دوبارہ اس کی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16514]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4206
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 16514 in Urdu
يزيد بن أبي عبيد الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي