🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
351. حديث عمرو بن القاري عن ابيه عن جده
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16584
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْقَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَمْرِو بْنِ الْقَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ فَخَلَّفَ سَعْدًا مَرِيضًا حَيْثُ خَرَجَ إِلَى حُنَيْنٍ، فَلَمَّا قَدِمَ مِنْ جِعِرَّانَةَ مُعْتَمِرًا دَخَلَ عَلَيْهِ وَهُوَ وَجِعٌ مَغْلُوبٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا، وَإِنِّي أُورَثُ كَلَالَةً، أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ، أَوْ أَتَصَدَّقُ بِهِ؟، قَالَ:" لَا"، قَالَ: أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْهِ؟، قَالَ:" لَا"، قَالَ: أَفَأُوصِي بِشَطْرِهِ؟، قَالَ:" لَا"، قَالَ: أَفَأُوصِي بِثُلُثِهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَذَاكَ كَثِيرٌ"، قَالَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، أَمُوتُ بِالدَّارِ الَّتِي خَرَجْتُ مِنْهَا مُهَاجِرًا؟، قَالَ:" إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَرْفَعَكَ اللَّهُ، فَيَنْكَأَ بِكَ أَقْوَامًا، وَيَنْفَعَ بِكَ آخَرِينَ، يَا عَمْرُو بْنَ الْقَارِيِّ، إِنْ مَاتَ سَعْدٌ بَعْدِي، فَهَا هُنَا فَادْفُنْهُ نَحْوَ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ" وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذَا.
سیدنا عمرو بن قاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حنین کی طرف روانہ ہوئے تو اپنے پیچھے سیدنا سعد کو بیمار چھوڑ گئے اور جب جعرانہ سے عمرہ کر کے واپس تشریف لائے اور ان کے پاس گئے تو وہ تکلیف کی شدت سے نڈھال ہو رہے تھے، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ!! میرے پاس مال و دولت ہے، میرے ورثاء میں صرف کلالہ ہے کیا میں اپنے سارے مال کے متعلق کوئی وصیت کر دوں یا اسے صدقہ کر دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں انہوں نے دو تہائی مال کی وصیت کے متعلق پوچھا:، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: نہیں، انہوں نے نصف مال کے متعلق پوچھا:، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منع فرما دیا، انہوں نے ایک تہائی کے متعلق پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اور ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے۔ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ!! میں اس سر زمین میں مروں گا جس سے میں ہجرت کر کے چلا گیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں رفعتیں عطاء فرمائے گا اور تمہاری بدولت بہت سوں کو سرنگوں اور بہت سوں کو سربلند کر ے گا، اے عمرو بن قاری! اگر میرے پیچھے سعد کا انتقال ہو جائے تو انہیں یہاں دفن کرنا اور یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ منورہ کی طرف جانے والے راستے کی جانب اشارہ فرمایا:۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16584]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال عمرو بن القاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن القاريصحابي
👤←👥والد عمرو بن القاري
Newوالد عمرو بن القاري ← عمرو بن القاري
مجهول الحال
👤←👥عمرو بن عبد الله القاري
Newعمرو بن عبد الله القاري ← والد عمرو بن القاري
مقبول
👤←👥عبد الله بن عثمان القاري، أبو عثمان
Newعبد الله بن عثمان القاري ← عمرو بن عبد الله القاري
مقبول
👤←👥وهيب بن خالد الباهلي، أبو بكر
Newوهيب بن خالد الباهلي ← عبد الله بن عثمان القاري
ثقة ثبت
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان
Newعفان بن مسلم الباهلي ← وهيب بن خالد الباهلي
ثقة ثبت
Musnad Ahmad Hadith 16584 in Urdu