علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
366. حديث فلان عن النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 16600
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، قَالَ: قُلْتُ لِجُنْدُبٍ : إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ، فَقَالَ: أَمْسِكْ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ، فَقَالَ: افْتَدِ بِمَالِكَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِبَ مَعَهُمْ بِالسَّيْفِ، فَقَالَ جُنْدُبٌ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟"، قَالَ شُعْبَةُ: فَأَحْسِبُهُ قَالَ:" فَيَقُولُ عَلَامَ قَتَلْتَهُ؟، فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ"، قَالَ: فَقَالَ جُنْدُبٌ: فَاتَّقِهَا.
ابو عمران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لیجیے، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں، جندب نے کہا مت جاؤ، میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ، میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں، اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کر ے گا پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا؟ وہ عرض کر ے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے، اس لئے تم اس سے بچو۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16600]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 16600 in Urdu
جندب بن عبد الله البجلي ← اسم مبهم