مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
378. حديث رجل من بني يربوع
حدیث نمبر: 16613
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ يَقُولُ:" يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ"، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بن يَرْبُوع الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى".
بنویربوع کے ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو لوگوں سے گفتگو کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے، اپنی ماں، باپ، بہن، بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کیا کر و، ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ!! یہ بنوثعلبہ بن یربوع ہیں، انہوں نے فلاں آدمی کو قتل کر دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کسی دوسرے کے جرم کا ذمہ دار نہیں ہو گا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16613]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سليم بن أسود المحاربي ← اسم مبهم