علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
384. حديث رجال يتحدثون
حدیث نمبر: 16620
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَدَّثُونَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أُعْتِقَتْ الْأَمَةُ وَهِيَ تَحْتَ الْعَبْدِ، فَأَمْرُهَا بِيَدِهَا، فَإِنْ هِيَ أَقَرَّتْ حَتَّى يَطَأَهَا، فَهِيَ امْرَأَتُهُ لَا تَسْتَطِيعُ فِرَاقَهُ".
چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی باندی کو آزادی کا پروانہ مل جائے تو اسے اختیار مل جاتا ہے، بشرطیکہ اس نے اس کے ساتھ ہمبستری نہ کی ہو کہ اگر چاہے تو اپنے شوہر سے جدائی اختیار کر لے اور اگر وہ اس سے ہمبستری کر چکا ہو تو پھر اسے یہ اختیار نہیں رہتا اور وہ اس سے جدا نہیں ہو سکتی۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16620]
حکم دارالسلام: حديث حسن، سماع الحسن بن موسي من ابن لهيعة بعد احتراق كتبه ، وقد توبع
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 16620 in Urdu
الفضل بن الحسن الضمري ← اسم مبهم