علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
439. حديث عبد الله بن مغفل المزني عن النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 16807
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ ، وَقَدْ غَزَا سَبْعَ غَزَوَاتٍ فِي إِمارَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي بِمَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْنَا مِنْ هَذَا الشَّرَابِ، فَقَالَ: الْخَمْرَ، قَالَ: هَذَا فِي الْقُرْآنِ، قال: أَفَلَا أُحَدِّثُكَ ما سَمِعْتُ مُحَمَّدًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ بَدَأَ بِالِاسْمِ، أَوْ بِالرِّسَالَةِ، قَالَ: شَرْعِي، أَنِّي اكْتَفَيْتُ؟!، قَالَ:" نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ"، قَالَ: مَا الْحَنْتَمُ؟، قَالَ: الْأَخْضَرُ، وَالْأَبْيَضُ، قَالَ: مَا الْمُقَيَّرُ؟، قَالَ: مَا لُطِخَ بِالْقَارِ مِنْ زِقٍّ، أَوْ غَيْرِهِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى السُّوقِ، فَاشْتَرَيْتُ أَفِيقَةً، فَمَا زَالَتْ مُعَلَّقَةً فِي بَيْتِي.
فضیل بن زید رقاشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ شراب کا تذکر ہ شروع ہو گیا اور سیدنا عبداللہ بن مغفل کہنے لگے کہ شراب حرام ہے، میں نے پوچھا: کیا کتاب اللہ میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تمہارا مقصد کیا ہے؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں نے اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سنا ہے وہ تمہیں بھی سناؤں؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو، حنتم اور مزفت سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، میں نے حنتم کا مطلب پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ ہر سبز اور سفید مٹکا، میں نے مزفت کا مطلب پوچھا: تو فرمایا کہ لک وغیرہ سے بنا ہوا ہر برتن چنانچہ میں بازار گیا اور چمڑے کا بڑا ڈول خرید لیا اور وہی میرے گھر میں لٹکا رہا۔ [مسند احمد/مسند المدنيين رضي الله عنهم اجمعين/حدیث: 16807]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 16807 in Urdu
الفضيل بن زيد الرقاشي ← عبد الله بن مغفل المزني