الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
561. بقية حديث عمرو بن العاص عن النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 17824
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَرَجُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصْمَانِ يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ لِعَمْرٍو:" اقْضِ بَيْنَهُمَا يَا عَمْرُو". فَقَالَ: أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" وَإِنْ كَانَ". قَالَ: فَإِذَا قَضَيْتُ بَيْنَهُمَا فَمَا لِي؟ قَالَ: " إِنْ أَنْتَ قَضَيْتَ بَيْنَهُمَا فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ، فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَإِنْ أَنْتَ اجْتَهَدْتَ وَأَخْطَأْتَ، فَلَكَ حَسَنَةٌ" ..
حضرت عمرو بن عاص سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے عمرو! ان کے درمیان تم فیصلہ کرو، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زیادہ آپ اس کے حقدار ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمرو! ان کے درمیان تم فیصلہ کرو، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زیادہ آپ اس کے حقدار ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے باوجود میں تمہیں یہی حکم دیتا ہوں، انہوں نے کہا کہ اگر میں ان کے درمیان فیصلہ کر دوں تو مجھے کیا ثواب ملے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے ان کے درمیان فیصلہ کیا اور صحیح کیا تو تمہیں دس نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے محنت تو کی لیکن فیصلہ میں غلطی ہوگئی تو تمہیں ایک نیکی ملے گی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17824]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا لعلل
الرواة الحديث:
عبد الله بن عمرو السهمي ← عمرو بن العاص القرشي