علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
605. حديث وابصة بن معبد الأسدي نزل الرقة رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 18001
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْرَزٍ ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ لَا أَدَعَ شَيْئًا مِنَ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ، وَإِذَا عِنْدَهُ جَمْعٌ، فَذَهَبْتُ أَتَخَطَّى النَّاسَ، فَقَالُوا: إِلَيْكَ يَا وَابِصَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَيْكَ يَا وَابِصَةُ. فَقُلْتُ: أَنَا وَابِصَةُ، دَعُونِي أَدْنُو مِنْهُ، فَإِنَّهُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ. فَقَالَ لِي:" ادْنُ يَا وَابِصَةُ، ادْنُ يَا وَابِصَةُ". فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى مَسَّتْ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ، فَقَالَ:" يَا وَابِصَةُ، أُخْبِرُكَ مَا جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنْهُ، أَوْ تَسْأَلُنِي؟" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَخْبِرْنِي. قَالَ:" جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ". قُلْتُ: نَعَمْ. فَجَمَعَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِهَا فِي صَدْرِي، وَيَقُولُ:" يَا وَابِصَةُ اسْتَفْتِ نَفْسَكَ، الْبِرُّ: مَا اطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَاطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، وَالْإِثْمُ: مَا حَاكَ فِي الْقَلْبِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ" .
حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میرا ارادہ تھا کہ میں کوئی نیکی اور گناہ ایسا نہیں چھوڑوں گا جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لوں، جب میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے لوگ موجود تھے، میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھنے لگا، لوگ کہنے لگے وابصہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے ہٹو، میں نے کہا کہ میں وابصہ ہوں، مجھے ان کے قریب جانے دو، کیونکہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے قریب ہونا پسند ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھ سے فرمایا وابصہ! قریب آجاؤ، چنانچہ میں اتنا قریب ہوا کہ میرا گھٹنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے سے لگنے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وابصہ تم مجھ سے کیا پوچھنے کے لئے آئے ہو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی بتائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے نیکی اور نگاہ کے متعلق پوچھنے کے لئے آئے ہو، میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تین انگلیاں اکٹھی کیں اور ان سے میرے سینے کو کریدتے ہوئے فرمایا وابصہ! اپنے نفس سے فتوی لیا کرو، نیکی وہ ہوتی ہے جس میں دل مطمئن ہوتا ہے اور نفس کو سکون ملتا ہے اور گناہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دل میں کھٹکتا ہے اور دل میں تردد رہتا ہے، اگرچہ لوگ تمہیں فتوی دیتے رہیں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 18001]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدًا، الزبير أبو عبدالسلام كذاب، ولم يسمع من أيوب بن عبدالله
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥وابصة بن معبد الأسدي، أبو سالم، أبو الشعثاء، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥أيوب بن عبد الله القرشي أيوب بن عبد الله القرشي ← وابصة بن معبد الأسدي | مجهول الحال | |
👤←👥الزبير بن جواتشير البصري، أبو عبد السلام الزبير بن جواتشير البصري ← أيوب بن عبد الله القرشي | مقبول | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← الزبير بن جواتشير البصري | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد يزيد بن هارون الواسطي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة متقن |
Musnad Ahmad Hadith 18001 in Urdu
أيوب بن عبد الله القرشي ← وابصة بن معبد الأسدي