مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. مسنَد الفَضلِ بنِ عَبَّاس رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 1812
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ، أَكَانَ يُجْزِيهِ؟" , قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْجُجْ عَنْ أَبِيكَ"،.
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ میرے والد نے اسلام کا زمانہ پایا ہے، لیکن وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، اتنے کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ فرمایا: ”یہ بتاؤ کہ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا اور تم وہ ادا کرتے تو کیا وہ ادا ہوتا یا نہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ”پھر اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1812]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، سليمان بن يسار لم يدرك الفضل بن عباس، وهذا منقطع.
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 1812 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← الفضل بن العباس الهاشمي