مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
687. حديث طارق بن سويد رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 18787
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيّ ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا، فَنَشْرَبُ مِنْهَا، قَالَ:" لَا" فَعَاوَدْتُهُ، فَقَالَ:" لَا"، فَقُلْتُ: إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهَا لِلْمَرِيضِ، فَقَالَ: " إِنَّ ذَاكَ لَيْسَ شِفَاءً، وَلَكِنَّهُ دَاءٌ" ..
حضرت طارق بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ انگوروں کے علاقے میں رہتے ہیں کیا ہم انہیں نچوڑ کر (ان کی شراب پی سکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نے اپنی بات کی تکرار کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا نہیں، میں نے عرض کیا کہ ہم مریض کو علاج کے طور پر پلاسکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں شفاء نہیں بلکہ یہ تو نری بیماری ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18787]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سماك
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥طارق بن سويد الجعفي | صحابي | |
👤←👥علقمة بن وائل الحضرمي علقمة بن وائل الحضرمي ← طارق بن سويد الجعفي | ثقة | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← علقمة بن وائل الحضرمي | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← سماك بن حرب الذهلي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥مظفر بن مدرك الخراساني، أبو كامل مظفر بن مدرك الخراساني ← حماد بن سلمة البصري | ثقة متقن لا يروي إلا عن الثقات | |
👤←👥بهز بن أسد العمي، أبو الأسود بهز بن أسد العمي ← مظفر بن مدرك الخراساني | ثقة ثبت |
علقمة بن وائل الحضرمي ← طارق بن سويد الجعفي