مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
707. حديث المسور بن مخرمة الزهري ومروان بن الحكم رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 18908
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ ، قَالَ: مَرَّ بِي يَهُودِيٌّ وَأَنَا قَائِمٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، قَالَ: فَقَالَ: ارْفَعْ أَوْ اكْشِفْ ثَوْبَهُ عَنْ ظَهْرِهِ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ أَرْفَعُهُ، قَالَ: " فَنَضَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي مِنَ الْمَاءِ" .
حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی میرے پاس سے گذرا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے اس نے کہا کہ ان کا کپڑا ان کی پشت پر سے ہٹادو میں ہٹانے کے لئے آگے بڑھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے منہ پر پانی کا چھینٹادے مارا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18908]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الجهالة حال أم بكر
الرواة الحديث:
أم بكر بنت المسور الزهرية ← المسور بن مخرمة القرشي