مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
752. حديث أوس بن حذيفة رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 19021
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمُوا مِنْ ثَقِيفٍ مِنْ بَنِي مَالِكٍ، أَنْزَلَنَا فِي قُبَّةٍ لَهُ، فَكَانَ يَخْتَلِفُ إِلَيْنَا بَيْنَ بُيُوتِهِ وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ، فَإِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَلَا يَبْرَحُ يُحَدِّثُنَا وَيَشْتَكِي قُرَيْشًا، وَيَشْتَكِي أَهْلَ مَكَّةَ، ثُمَّ يَقُولُ: " لَا سَوَاءَ، كُنَّا بِمَكَّةَ مُسْتَذَلِّينَ أَوْ مُسْتَضْعَفِينَ، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ عَلَيْنَا وَلَنَا" فَمَكَثَ عَنَّا لَيْلَةً لَمْ يَأْتِنَا حَتَّى طَالَ ذَلِكَ عَلَيْنَا بَعْدَ الْعِشَاءِ، قَالَ: قُلْنَا: مَا أَمْكَثَكَ عَنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" طَرَأَ عَنِّي حِزْبٌ مِنَ الْقُرْآنِ، فَأَرَدْتُ أَنْ لَا أَخْرُجَ حَتَّى أَقْضِيَهُ" فَسَأَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحْنَا، قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ؟ قَالُوا: نُحَزِّبُهُ ثلاث سُوَرٍ، وَخَمْسَ سُوَرٍ، وَسَبْعَ سُوَرٍ، وَتِسْعَ سُوَرٍ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ سُورَةً، وَثَلَاثَ عَشْرَةَ سُورَةً، وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ مِنْ ق حَتَّى تَخْتِمَ .
حضرت اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ثقیف کے وفد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم بنی مالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک قبہ میں ٹھہرایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شب عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو فرماتے رہتے اور زیادہ تر ہمیں قریش کے اپنے ساتھ رویہ کے متعلق سناتے اور فرماتے ہم اور وہ برابر نہ تھے کیونکہ ہم کمزور اور ظاہر طور پر دباؤ میں تھے جب ہم مدینہ آئے تو جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا کبھی ہم ان سے ڈول نکالتے (اور فتح حاصل کرلیتے . اور کبھی وہ ہم سے ڈول نکالتے (اور فتح پاتے) ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سابقہ معمول سے ذرا تاخیر سے تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم آج تاخیر سے تشریف لائے فرمایا میرا تلاوت قرآن کا معمول کچھ رہ گیا تھا میں نے پورا ہونے سے قبل نکلنا پسند نہ کیا حضرت اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم قرآن (کی تلاوت کے لئے) کیسے حصے کرتے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ تین (سورتیں فاتحہ کے بعدبقرہ، آل عمران اور نساء) اور پانچ (سورتیں مائدہ سے براءۃ کے آخرتک) اور سات (سورتیں یونس سے نحل تک) اور نو (سورتیں بنی اسرائیل سے فرقان تک) اور گیارہ (سورتیں شعراء سے یٰسین تک) اور تیرہ (سورتیں والصافات سے حجرات تک) اور آخری حزب مفصل کا یعنی سورت ق سے آخرتک۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19021]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عبدالرحمن عثمان بن عبدالله فيه لين
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أوس بن أبي أوس الثقفي، أبو إياس | صحابي | |
👤←👥عثمان بن عبد الله الثقفي عثمان بن عبد الله الثقفي ← أوس بن أبي أوس الثقفي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الله بن عبد الرحمن الطائفي، أبو يعلى عبد الله بن عبد الرحمن الطائفي ← عثمان بن عبد الله الثقفي | صدوق يخطئ ويهم | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← عبد الله بن عبد الرحمن الطائفي | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث |
عثمان بن عبد الله الثقفي ← أوس بن أبي أوس الثقفي