الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
771. حديث أبى ليلى بن عبد الرحمن بن أبى ليلى رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 19060
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال عبد الله: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فِي الْمَسْجِدِ، فَأُتِيَ بِرَجُلٍ ضَخْمٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عِيسَى، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ فِي الْفِرَاءِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُصَلِّي فِي الْفِرَاءِ؟ قَالَ:" فَأَيْنَ الدِّبَاغُ؟" فَلَمَّا وَلَّى، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ:" هَذَا سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ" .
ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک بھاری بھرکم آدمی کو لایا گیا اس نے کہا اے ابوعیسیٰ! انہوں نے فرمایا جی جناب! اس نے کہا کہ پوستین کے بارے میں آپ نے جو حدیث سنی ہے وہ ہمیں بتائیے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! کیا میں پوستین میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو دباغت کہاں جائے گی؟ جب وہ چلا گیا تو میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19060]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى: وهو محمد بن عبدالرحمن ضعيف، وقد تفرد به، واختلف عليه فيه، ومن أوهامه أنه سمي الرجل الذى سأل النبى صلى الله عليه وسلم سويد بن غفلة، والصحيح أن سويدا تابعي كبير
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← بلال بن بحيحة الأنصاري