الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
778. حديث أسيد بن حضير رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 19095
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَدِمْنَا مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، فَتُلُقِّينَا بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَكَانَ غِلْمَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ تَلَقَّوْا أَهْلِيهِمْ، فَلَقُوا أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ ، فَنَعَوْا لَهُ امْرَأَتَهُ، فَتَقَنَّعَ وَجَعَلَ يَبْكِي، قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ، أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكَ مِنَ السَّابِقَةِ وَالْقِدَمِ، مَا لَكَ تَبْكِي عَلَى امْرَأَةٍ. فَكَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ، وَقَالَ: صَدَقْتِ لَعَمْرِي، حَقِّي أَنْ لَا أَبْكِي عَلَى أَحَدٍ بَعْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ، قَالَتْ: قُلْتُ لَهُ: مَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " لَقَدْ اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ" . قَالَتْ: وَهُوَ يَسِيرُ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حج یا عمرے سے واپس آرہے تھے ہم ذوالحلیفہ میں پہنچے انصار کے کچھ نوجوان اپنے اہل خانہ سے ملنے لگے ان میں سے کچھ لوگ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے بھی ملے اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر ان سے تعزیت کی اس پر وہ منہ چھپا کر رونے لگے میں نے ان سے کہا کہ اللہ آپ کی بخشش فرمائے آپ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور آپ کو تو اسلام میں سبقت اور ایک مقام حاصل ہے آپ اپنی بیوی پر کیوں رو رہے ہیں انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹا کر فرمایا آپ نے سچ فرمایا میرے جان کی قسم! میرا حق بنتا ہے کہ سعد بن معاذ کے بعد کسی پر آنسو نہ بہاؤں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق ایک عجیب بات فرمائی تھی میں نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سعد بن معاذ کی وفات پر اللہ کا عرش ہلنے لگا اور وہ میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان چل رہے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19095]
حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة عمرو بن علقمة والد محمد
الرواة الحديث:
عائشة بنت أبي بكر الصديق ← أسيد بن حضير الأشهلي