مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
783. حديث زيد بن أرقم رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 19326
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، قَالَ: سَأَلْتُ هَذَا، فَقَالَ: ائْتِ فُلَانًا، فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ، وَسَأَلْتُ الْآخَرَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَا: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا .
ابومنہال رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا وہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ لو، یہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جانتے والے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان سے پوچھ لویہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جاننے والے ہیں بہرحال! ان دونوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے بدلے چاندی کی ادھارخریدوفروخت سے منع کیا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19326]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2060، م: 1589
الرواة الحديث:
البراء بن عازب الأنصاري ← زيد بن أرقم الأنصاري