یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 1933
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ"، قَالَ عَمْرٌو: قُلْتُ لَهُ: حَدَّثْتَنِي، قَالَ: لَا، مَا حَدَّثْتُكَ بِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا علم تکبیر کی آواز سے ہوتا تھا۔ فائدہ: اس سے مراد اختتام نماز کے بعد جب امام سر پر ہاتھ رکھ کر اللہ اکبر یا استغفر اللہ کہتا ہے، وہ تکبیر ہے، ورنہ نماز کا اختتام تکبیر پر نہیں، سلام پر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1933]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 841، م: 583.
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 1933 in Urdu
نافذ مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي