مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
797. حديث الشريد بن سويد الثقفي رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 19475
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ: عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ الشَّرِيدَ يَقُولُ: أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ أَوْ: هَرْوَلَ، فَقَالَ: " ارْفَعْ إِزَارَكَ، وَاتَّقِ اللَّهَ"، قَالَ: إِنِّي أَحْنَفُ، تَصْطَكُّ رُكْبَتَايَ، فَقَالَ:" ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنَّ كُلَّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَسَنٌ"، فَمَا رُئِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ بَعْدُ إِلَّا إِزَارُهُ يُصِيبُ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ، أَوْ: إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ .
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی کے پیچھے چلے حتیٰ کہ اس کے پیچھے دوڑ پڑے اور اس کا کپڑا پکڑ کر فرمایا اپنا تہبند اوپر کرو، اس نے اپنے گھٹنوں سے کپڑا ہٹا کر عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاؤں ٹیڑھے ہیں اور چلتے ہوئے میرے گھٹنے ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق بہترین ہے، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد مرتے دم تک اس شخص کو جب بھی دیکھا گیا اس کا تہبند نصف پنڈلی تک ہی رہا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19475]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
يعقوب بن عاصم الثقفي ← الشريد بن سويد الثقفي