مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
803. حديث حكيم بن معاوية البهزي عن أبيه
حدیث نمبر: 20014
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو قَزَعَةَ سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ الْبَاهِلِيُّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ أَخَاهُ مَالِكًا قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ، إِنَّ مُحَمَّدًا أَخَذَ جِيرَانِي، فَانْطَلِقْ إِلَيْهِ، فَإِنَّهُ قَدْ عَرَفَكَ وَكَلَّمَكَ , قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: دَعْ لِي جِيرَانِي، فَإِنَّهُمْ قَدْ كَانُوا أَسْلَمُوا , فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَقَامَ مُتَمَعِّطًا، فَقَالَ: أَمْا وَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَ، إِنَّ النَّاسَ لَيَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَأْمُرُ بِالْأَمْرِ، وَتَخْالُفُ إِلَى غَيْرِهِ، وَجَعَلْتُ أَجُرُّهُ وَهُوَ يَتَكَلَّمُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَقُولُ؟" فَقَالُوا: إِنَّكَ وَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَ ذَلِكَ، إِنَّ النَّاسَ لَيَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَتَأْمُرُ بِالْأَمْر، وَتُخَالِفُ إِلَى غَيْرِهِ , قَالَ: فَقَالَ:" أَوَ قَدْ قَالُوهَا أَوْ قَائِلُهُمْ؟ فَلَئِنْ فَعَلْتُ ذَاكَ، وَمَا ذَاكَ إِلَّا عَلَيَّ، وَمَا عَلَيْهِمْ مِنْ ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ، أَرْسِلُوا لَهُ جِيرَانَهُ" .
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے بھائی مالک نے ان سے کہا کہ معاویہ! محمد صلی اللہ علیہ السلام نے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا ہے، تم ان کے پاس جاؤ، وہ تمہیں پہچانتے اور تم سے بات کرتے ہیں، میں اپنے بھائی کے ساتھ چلا گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پڑوسیوں کو چھوڑ دیجئے، وہ مسلمان ہوچکے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سے اعراض کیا، (میرا بھائی) اکھڑ پن کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور آہستہ سے کہا کہ بخدا! اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ بولتا جا رہا تھا اور میں اپنی چادر گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا کہہ رہے تھے؟ (وہ خاموش رہا) لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہا تھا اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا لوگ ایسی بات کہہ سکتے ہیں، اگر میں نے ایسا کیا بھی تو اس کا اثر مجھ پر ہوگا، ان پر تو کچھ نہ ہوگا، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20014]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥معاوية بن حيدة القشيري، أبو حكيم | صحابي | |
👤←👥حكيم بن معاوية البهزي حكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سويد بن حجير الباهلي، أبو قزعة سويد بن حجير الباهلي ← حكيم بن معاوية البهزي | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← سويد بن حجير الباهلي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
Musnad Ahmad Hadith 20014 in Urdu
حكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري