مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
882. حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 20686
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ وَاصِلٍ الْحَدَّادُّ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ أَبُو الْحَارِثِ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ الْجَرْمِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَاهُ وَنَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ وَفَدُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ظَهَرَ أَمْرُهُ، وَتَعَلَّمَ النَّاسُ الْقُرْآنَ، فَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ، ثُمَّ سَأَلُوهُ مَنْ يُصَلِّي لَنَا أَوْ يُصَلِّي بِنَا؟ فَقَالَ: " يُصَلِّي لَكُمْ أَوْ بِكُمْ أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ"، فَقَدِمُوا عَلَى قَوْمِهِمْ، فَسَأَلُوا فِي الْحَيِّ، فَلَمْ يَجِدُوا أَحَدًا جَمَعَ أَكْثَرَ مِمَّا جَمَعْتُ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ وَأَنَا غُلَامٌ عَلَيَّ شَمْلَةٌ لِي، قَالَ: فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلَّا كُنْتُ إِمَامَهُمْ إِلَى يَوْمِي هَذَا .
حضرت عمرو بن سلمہ سے مروی ہے کہ ان کے قبیلے کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب ان کا واپسی کا ارادہ ہوا تو وہ کہنے لگے یارسول اللہ ہماری امامت کون کرائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے قرآن جسے سب سے زیادہ آتاہو اس وقت قرآن کسی کو اتنا یاد نہ تھا جتنا مجھے یاد تھا چنانچہ انہوں نے مجھے نوعمر ہونے کے باوجود آگے کردیا میں جس وقت ان کی امامت کرتا تھا تو میرے اوپر ایک چادرہوتی تھی اور اس کے بعد میں قبیلہ جرم کے جس مجمعے میں موجودرہا ان کی امامت میں نے ہی کی اور اب تک میں ان کو ہی نماز پڑھا رہا ہوں۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20686]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4302
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 20686 in Urdu
عمرو بن سلمة الجرمي ← سلمة بن قيس الجرمي