مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
882. حديث عمرو بن سلمة رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 20685
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ سَلِمَةَ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ، جَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ عَلَيْنَا، قَدْ جَاءُوا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَقْرَأُ وَأَنَا غُلَامٌ، فَجَاءَ أَبِي بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا"، فَنَظَرُوا، فَكُنْتُ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا، قَالَ: فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: غَطُّوا اسْتَ قَارِئِكُمْ، قَالَ: فَاشْتَرَوْا لَهُ بُرْدَةً، قَالَ: فَمَا فَرِحْتُ أَشَدَّ مِنْ فَرَحِي بِذَلِكَ .
حضرت عمرو بن سلمہ کہتے ہیں کہ جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا تو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگے وہ واپسی پر ہمارے پاس سے گزرتے تھے میرے والد صاحب بھی اپنی قوم کے اسلام کا پیغام لے کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تھے وہ واپس آنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امامت کے لئے اس شخص کو آگے کرنا جو سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو لوگوں نے غور کیا تو انہیں مجھ سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا کوئی نہ مل سکا چنانچہ انہوں نے نوعمر ہونے کے باوجود مجھ کو ہی آگے کردیا اور میں انہیں نماز پڑھانے لگا میرے جسم پر ایک چادر ہوتی تھی میں جب رکوع یا سجدے میں جاتا تو وہ چھوٹی پڑجاتی اور میرا ستر کھل جاتا یہ دیکھ کر ایک بوڑھی خاتون لوگوں سے کہنے لگی کہ اپنے امام صاحب کا ستر تو چھپاؤ چنانچہ لوگوں نے میرے لئے ایک قمیض تیار کردی جسے پاکر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20685]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4302
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمرو بن سلمة الجرمي، أبو يزيد، أبو بريد | صحابي صغير | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← عمرو بن سلمة الجرمي | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← أيوب السختياني | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة ثبت |
أيوب السختياني ← عمرو بن سلمة الجرمي