مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
888. حديث طفيل بن سخبرة رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 20694
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ طُفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، أَنَّهُ رَأَى فِيمَا يَرَى النَّائِمُ، كَأَنَّهُ مَرَّ بِرَهْطٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ الْيَهُودُ، قَالَ: إِنَّكُمْ أَنْتُمْ الْقَوْمُ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ عُزَيْرًا ابْنُ اللَّهِ! فَقَالَتْ الْيَهُودُ: وَأَنْتُمْ الْقَوْمُ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ! ثُمَّ مَرَّ بِرَهْطٍ مِنَ النَّصَارَى، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: نَحْنُ النَّصَارَى، فَقَالَ: إِنَّكُمْ أَنْتُمْ الْقَوْمُ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ! قَالُوا: وَإِنَّكُمْ أَنْتُمْ الْقَوْمُ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ مُحَمَّدٌ! فَلَمَّا أَصْبَحَ أَخْبَرَ بِهَا مَنْ أَخْبَرَ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ" هَلْ أَخْبَرْتَ بِهَا أَحَدًا؟" قَالَ عَفَّانُ: قَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا صَلَّوْا خَطَبَهُمْ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ" إِنَّ طُفَيْلًا رَأَى رُؤْيَا، فَأَخْبَرَ بِهَا مَنْ أَخْبَرَ مِنْكُمْ، وَإِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَقُولُونَ كَلِمَةً كَانَ يَمْنُعُنِي الْحَيَاءُ مِنْكُمْ أَنْ أَنْهَاكُمْ عَنْهَا"، قَالَ: " لَا تَقُولُوا مَا شَاءَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ مُحَمَّدٌ" .
حضرت طفیل بن سخبرہ جو حضرت عائشہ کے ماں شریک بھائی ہیں کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ وہ یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس سے گذرے اور ان سے پوچھا کہ تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا ہم یہودی ہیں طفیل نے کہا تم ایک صحیح قوم ہوتے اگر تم حضرت عزیر کو اللہ کا بیٹا نہ سمجھتے یہودیوں نے کہا تم بھی ایک صحیح قوم ہوتے اگر تم یوں نہ کہتے کہ جو اللہ نے چاہا اور جو محمد نے چاہا پھر ان کا گذر عیسائیوں کے ایک گروہ پر ہوا اور ان سے پوچھا کہ تم کون لوگ ہو انہوں نے کہا ہم عیسائی ہیں طفیل نے کہا تم ایک صحیح قوم ہوتے اگر تم حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا نہ قرار دیتے عیسائیوں نے کہا تم بھی ایک صحیح قوم ہوتے اگر تم یوں نہ کہتے کہ جو اللہ نے چاہا اور جو محمد نے چاہا۔ صبح ہوئی تو انہوں نے یہ خواب کچھ لوگوں کو سنایا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں بھی یہ واقعہ سنایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے یہ خواب کسی کو بتایا بھی ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ چنانچہ نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا کہ طفیل نے ایک خواب دیکھا ہے جو اس نے تم میں سے بعض لوگوں کو بتایا بھی ہے تم یہ جملہ پہلے کہتے تھے جس سے تمہیں روکتے ہوئے مجھے حیاء مانع ہوجاتی تھی اب یہ نہ کہا کرو کہ جو اللہ نے چاہا اور جو محمد نے چاہا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20694]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناده على عبدالملك بن عمير
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الطفيل بن سخبرة القرشي | صحابي | |
👤←👥ربعي بن حراش العبسي، أبو مريم ربعي بن حراش العبسي ← الطفيل بن سخبرة القرشي | ثقة | |
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر عبد الملك بن عمير اللخمي ← ربعي بن حراش العبسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← عبد الملك بن عمير اللخمي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥بهز بن أسد العمي، أبو الأسود بهز بن أسد العمي ← عفان بن مسلم الباهلي | ثقة ثبت |
ربعي بن حراش العبسي ← الطفيل بن سخبرة القرشي