مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2070
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284، قَالَ: دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا"، فَأَلْقَى اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ سورة البقرة آية 285 - 286، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: آدَمُ هَذَا هُوَ أَبُو يَحْيَى بْنُ آدَمَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ﴾ [البقرة: 284] » ”تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، اسے تم چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ تم سے ان سب کا حساب لے گا۔“ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس پر قلبی طور پر ایسی بےچینی محسوس ہوئی جو اس سے قبل نہیں ہوئی تھی (کہ دلی ارادہ کا بھی حساب کتاب ہوگا تو کیا بنے گا؟) لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ”تم یہی کہو: ہم نے سن لیا، ہم نے اطاعت کی اور سر تسلیم خم کر دیا“، چنانچہ اللہ نے ان کے دلوں میں پہلے سے موجود ایمان کو مزید راسخ کر دیا اور سورہ بقرہ کی یہ اختتامی آیات نازل فرمائیں: « ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ o لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴾ [البقرة: 285-286] » جن کا ترجمہ یہ ہے: ”پیغمبر اس چیز پر ایمان لے آئے جو ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل ہوئی، اور مومنین بھی، یہ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان لے آئے اور کہتے ہیں کہ ہم کسی پیغمبر میں تفریق روا نہیں رکھتے، اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی، پروردگار! ہمیں معاف فرما، اور آپ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا، انسان کو انہی چیزوں کا فائدہ ہوگا جو اس نے کمائیں، اور انہیں چیزوں کا نقصان ہوگا جو اس نے کمائیں، پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے تو اس پر ہمارا مؤاخذہ نہ فرمایا، اور ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، پروردگار! ہم پر اس چیز کا بوجھ نہ ڈال جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے، ہم سے درگزر فرما، ہمیں معاف فرما، ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا آقا ہے، اس لئے تو ہی کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2070]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 126.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة ثبت | |
👤←👥آدم بن سليمان القرشي، أبو يحيى آدم بن سليمان القرشي ← سعيد بن جبير الأسدي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← آدم بن سليمان القرشي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام |
Musnad Ahmad Hadith 2070 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي