🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
950. حديث أبى ذر الغفاري رضي الله تعالى عنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21530
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ، فَكُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاهُ فَلَقِيتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا ذَرٍّ ، بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ فَكُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاكَ فَأَسْأَلَكَ عَنْهُ، فَقَالَ: قَدْ لَقِيتَ فَاسْأَلْ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ، وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمْ اللَّهُ"، قَالَ: نَعَمْ، فَمَا إِخَالُنِي أَكْذِبُ عَلَى خَلِيلِي مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا يَقُولُهَا، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ:" رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَلَقِيَ الْعَدُوَّ مُجَاهِدًا مُحْتَسِبًا فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، وَأَنْتُمْ تَجِدُونَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا سورة الصف آية 4، وَرَجُلٌ لَهُ جَارٌ يُؤْذِيهِ، فَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُ وَيَحْتَسِبُهُ حَتَّى يَكْفِيَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ بِمَوْتٍ أَوْ حَيَاةٍ، وَرَجُلٌ يَكُونُ مَعَ قَوْمٍ فَيَسِيرُونَ حَتَّى يَشُقَّ عَلَيْهِمْ الْكَرَى وَالنُّعَاسُ، فَيَنْزِلُونَ فِي آخِرِ اللَّيْلِ فَيَقُومُ إِلَى وُضُوئِهِ وَصَلَاتِهِ"، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمْ اللَّهُ؟ قَالَ:" الْفَخُورُ الْمُخْتَالُ وَأَنْتُمْ تَجِدُونَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ سورة لقمان آية 18، وَالْبَخِيلُ الْمَنَّانُ، وَالتَّاجِرُ أَوْ الْبَيَّاعُ الْحَلَّافُ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا الْمَالُ؟ قَالَ: فِرْقٌ لَنَا وَذَوْدٌ يَعْنِي بِالْفِرْقِ غَنَمًا يَسِيرَةً، قَالَ: قُلْتُ: لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُ، إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ صَامِتِ الْمَالِ؟ قَالَ: مَا أَصْبَحَ لَا أَمْسَى، وَمَا أَمْسَى لَا أَصْبَحَ، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا لَكَ وَلِإِخْوَتِكَ قُرَيْشٍ؟ قَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهُمْ دُنْيَا وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينِ اللَّهِ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ثَلَاثًا يَقُولُهَا" .
ابن احمس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا تمہارے ذہن میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی نسبت کروں گا جبکہ میں نے وہ بات سنی بھی ہو وہ کون سی حدیث ہے جو تمہیں میرے حوالے سے معلوم ہوئی ہے؟ میں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے آپ کہتے ہیں کہ تین قسم کے آدمی اللہ کو محبوب ہیں اور تین قسم کے آدمیوں سے اللہ کو نفرت ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! یہ بات میں نے کہی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی بھی ہے میں نے عرض کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ محبت کرتا ہے؟ انہوں نے فرمایا ایک تو وہ آدمی جو ایک جماعت کے ساتھ دشمن سے ملے اور ان کے سامنے سینہ سپر ہوجائے یہاں تک کہ شہید ہوجائے یا اس کے ساتھیوں کو فتح مل جائے دوسرے وہ لوگ جو سفر پر روانہ ہوں ان کا سفر طویل ہوجائے اور ان کی خواہش ہو کہ شام کے وقت کسی علاقے میں پڑاؤ کریں، چنانچہ وہ پڑاؤ کریں تو ان میں سے ایک آدمی ایک طرف کو ہو کر نماز پڑھنے لگے یہاں تک کہ کوچ کا وقت آنے پر انہیں جگا دے اور تیسرا وہ آدمی جس کا کوئی ایسا ہمسایہ ہو جس کے پڑوس سے اسے تکلیف ہوتی ہو لیکن وہ اس کی ایذاء رسانی پر صبر کرے تاآنکہ موت آکر انہیں جدا کردے میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ نفرت کرتا ہے؟ فرمایا وہ تاجر جو قسمیں کھاتا ہے وہ بخیل جوا حسان جتاتا ہے اور وہ فقیر جو تکبر کرتا ہے۔ میں نے پوچھا اے ابوذر! آپ کے پاس کون سا مال ہے؟ انہوں نے فرمایا تھوڑی سی بکریاں اور چند اونٹ ہیں میں نے عرض کیا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھ رہا، سونا چاندی کے متعلق پوچھ رہا ہوں، انہوں نے فرمایا جو صبح ہوتا ہے وہ شام کو نہیں ہوتا اور جو شام کو ہوتا ہے وہ صبح نہیں ہوتا میں نے عرض کیا کہ آپ کا اپنے قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے فرمایا واللہ میں ان سے دنیا مانگتا ہوں اور نہ ہی دین کے متعلق پوچھتا ہوں اور میں ایسا ہی کروں گا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے جاملوں، یہ جملہ انہوں نے تین مرتبہ دہرایا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21530]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو ذر الغفاري، أبو ذرصحابي
👤←👥مطرف بن عبد الله الحرشي، أبو عبد الله
Newمطرف بن عبد الله الحرشي ← أبو ذر الغفاري
ثقة
👤←👥يزيد بن عبد الله العامري، أبو العلاء
Newيزيد بن عبد الله العامري ← مطرف بن عبد الله الحرشي
ثقة
👤←👥الأسود بن شيبان السدوسي، أبو شيبان
Newالأسود بن شيبان السدوسي ← يزيد بن عبد الله العامري
ثقة
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← الأسود بن شيبان السدوسي
ثقة متقن