مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
969. حديث بشير ابن الخصاصية السدوسي رضي الله عنه
حدیث نمبر: 21954
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حدثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ , سَمِعْتُ إِيَادَ بْنَ لَقِيطٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ لَيْلَى امْرَأَةَ بَشِيرٍ , تَقُولُ: أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , ولا أُكَلِّمُ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَحَدًا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا فِي أَيَّامٍ هُوَ أَحَدُهَا , أَوْ فِي شَهْرٍ , وَأَمَّا أَنْ لَا تُكَلِّمَ أَحَدًا , فَلَعَمْرِي لَأَنْ تَكَلَّمَ بِمَعْرُوفٍ , وَتَنْهَى عَنْ مُنْكَرٍ , خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَسْكُتَ" .
حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ " لیلیٰ " کہتی ہیں کہ حضرت بشیر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھا کہ میں جمعہ کا روزہ رکھ سکتا ہوں اور یہ کہ اس دن کسی سے بات نہ کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن کا خصوصیت کے ساتھ روزہ نہ رکھا کرو الاّ یہ کہ وہ ان دنوں یا مہینوں میں آرہا ہو جن میں تم روزہ رکھ رہے ہو اور باقی رہی یہ بات کہ کسی سے بات نہ کرو تو میری زندگی کی قسم! تمہارا کسی اچھی بات کا حکم دینا اور برائی سے روکنا تمہارے خاموش رہنے سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21954]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
ليلى امرأة بشير ← بشير بن الخصاصية السدوسي