مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
995. ومن حديث ثوبان رضي الله عنه
حدیث نمبر: 22437
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ فِي الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ مَا نَزَلَ، قَالُوا: فَأَيَّ الْمَالِ نَتَّخِذُ؟ قَالَ: عُمَرُ: أَنَا أَعْلَمُ ذَلِكَ لَكُمْ , قَالَ: فَأَوْضَعَ عَلَى بَعِيرٍ فَأَدْرَكَهُ، وَأَنَا فِي أَثَرِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَّ الْمَالِ نَتَّخِذُ؟ قَالَ: " لِيَتَّخِذْ أَحَدُكُمْ قَلْبًا شَاكِرًا، وَلِسَانًا ذَاكِرًا، وَزَوْجَةً تُعِينُهُ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سونے چاندی کے متعلق وہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو لوگ کہنے لگے کہ ہم کون سا مال اپنے پاس رکھا کریں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہیں پتہ کر کے بتاتا ہوں چنانچہ انہوں نے اپنا اونٹ تیزی سے دوڑایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جالیا میں بھی ان کے پیچھے تھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم کون سا مال اپنے پاس رکھیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذکر کرنے والی زبان، شکر گذار دل اور وہ مسلمان بیوی جو امور آخرت پر اس کی مدد کرنے والی ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22437]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، سالم لم يسمع من ثوبان
الرواة الحديث:
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← ثوبان بن بجدد القرشي