مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1010. حديث خالد بن عرفطة رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 22500
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَسَارٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ , وَخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، قَالَ: فَذَكَرُوا رَجُلًا مَاتَ مِنْ بَطْنِهِ، قَالَ: فَكَأَنَّمَا اشْتَهَيَا أَنْ يُصَلِّيَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ أَلَمْ يَقُلْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ، فَإِنَّهُ لَنْ يُعَذَّبَ فِي قَبْرِهِ" ؟ قَالَ الْآخَرُ: بَلَى.
عبداللہ بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ دونوں پیٹ کے مرض میں مبتلا ہو کر مرنے والے ایک آدمی کے جنازے میں شرکت کا ارادہ رکھتے تھے اسی دوران ایک نے دوسرے سے کہا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ جو شخص پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرے اسے قبر میں عذاب نہیں ہوگا؟ دوسرے نے کہا کیوں نہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22500]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 22500 in Urdu
سليمان بن صرد الخزاعي ← خالد بن عرفطة القضاعي