مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1011. حديث طارق بن سويد رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 22502
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْصِرُهَا، أَفَنَشْرَبُ مِنْهَا؟ قَالَ:" لَا" , فَرَاجَعْتُهُ، فَقَالَ:" لَا"، ثُمَّ رَاجَعْتُهُ، فَقَالَ" لَا"، فَقُلْتُ: إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهَا لِلْمَرِيضِ، قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ بِشِفَاءٍ، وَلَكِنَّهُ دَاءٌ" .
حضرت طارق بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم لوگ انگوروں کے علاقے میں رہتے ہیں کیا ہم انہیں نچوڑ کر (ان کی شراب) پی سکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، میں نے اپنی بات کی تکرار کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا نہیں میں نے عرض کیا کہ ہم مریض کو علاج کے طور پلا سکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں شفاء نہیں بلکہ یہ تو نری بیماری ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22502]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قد اختلف فيه على سماك بن حرب
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥طارق بن سويد الجعفي | صحابي | |
👤←👥علقمة بن وائل الحضرمي علقمة بن وائل الحضرمي ← طارق بن سويد الجعفي | ثقة | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← علقمة بن وائل الحضرمي | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← سماك بن حرب الذهلي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥مظفر بن مدرك الخراساني، أبو كامل مظفر بن مدرك الخراساني ← حماد بن سلمة البصري | ثقة متقن لا يروي إلا عن الثقات |
علقمة بن وائل الحضرمي ← طارق بن سويد الجعفي