مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1022. حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 22555
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ لِجِنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا، فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرٌ قَامَ فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا غَيْرُ ذَلِكَ، قَالَ لِأَهْلِهَا: شَأْنُكُمْ بِهَا، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا" ..
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی نماز جنازہ کے لئے بلایا جاتا تو پہلے اس کے متعلق لوگوں کی رائے معلوم کرتے تھے اگر لوگ اس کا تذکرہ اچھائی کے ساتھ کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوجاتے اور اس کی نماز پڑھا دیتے اور اگر برائی کے ساتھ تذکرہ ہوتا تو اس کے اہل خانہ سے فرما دیتے اسے لے جاؤ اور خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز نہ پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22555]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 22555 in Urdu
عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي