مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1027. حديث عبادة بن الصامت رضي الله عنه
حدیث نمبر: 22683
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، قَالَ: كَانَ أُنَاسٌ يَبِيعُونَ الْفِضَّةَ مِنَ الْمَغَانِمِ إِلَى الْعَطَاءِ , فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ :" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ، إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ وَاسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى" .
ابوالاشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مال غنیمت سے حاصل ہونے والی چاندی کو لوگ وظیفہ کی رقم حاصل ہونے پر موقوف کر کے بیچا کرتے تھے یہ دیکھ کر حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی سونے کے بدلے چاندی کی چاندی کے بدلے، کجھور کی کجھور کے بدلے، گندم کی گندم کے بدلے، جو کی جو کے بدلے اور نمک کے بدلے نمک کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ الاّ یہ کہ وہ برابر برابر ہو جو شخص اضافہ کرے یا اضافہ کی درخواست کرے تو اس نے سودی معاملہ کیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22683]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1587
الرواة الحديث:
شراحيل بن آده الصنعاني ← عبادة بن الصامت الأنصاري