پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ شَيْخٌ مِنَ النَّخَعِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يُحَدِّثُ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ، حُفَاةً، عُرَاةً، غُرْلًا: كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104 , أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلْقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ، وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِأُنَاسٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَلَأَقُولَنّ: أَصْحَابِي، فَلَيُقَالَنَّ لِي: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ , فَلَأَقُولَنَّ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ إِلَى فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 117 - 118 , فَيُقَالُ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ" , قَالَ شُعْبَةُ: أَمَلَّهُ عَلَى سُفْيَانَ، فَأَمَلَّهُ عَلَيَّ سُفْيَانُ مَكَانَهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان وعظ و نصیحت کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ ”قیامت کے دن تم سب اللہ کی بارگاہ میں ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون ہونے کی حالت میں پیش کئے جاؤ گے، ارشاد ربانی ہے: « ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ﴾ [الأنبياء: 104] » ”ہم نے تمہیں جس طرح پہلے پیدا کیا تھا، دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے، یہ ہمارے ذمے وعدہ اور ہم یہ کر کے رہیں گے۔“ پھر مخلوق میں سب سے پہلے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا جو کہ اللہ کے خلیل ہیں۔ پھر تم میں سے ایک قوم کو بائیں جانب سے پکڑ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا کہ پروردگار! یہ میرے ساتھی ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات ایجاد کر لی تھیں، یہ آپ کے وصال اور ان سے آپ کی جدائیگی کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور اسی پر مستقل طور پر قائم رہے، یہ سن کر میں وہی کہوں گا جو عبد صالح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: « ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ . . . . . فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [المائدة: 117-118] » ”میں جب تک ان کے درمیان رہا، اس وقت تک ان کے احوال کی نگہبانی کرتا رہا . . . . . بیشک آپ بڑے غالب حکمت والے ہیں۔“ تو کہا جائے گا کہ آپ کی ان سے جدائی کے بعد یہ لوگ ہمیشہ کے لئے اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ گئے تھے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2281]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3349، م: 2860
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 2281 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي