مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1028. حديث أبى مالك سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه
حدیث نمبر: 22814
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: هَلْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَيْنِهِ يَعْنِي: الْحُوَّارَى؟ قَالَ: " مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ بِعَيْنِهِ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , فَقِيلَ لَهُ: هَلْ كَانَ لَكُمْ مَنَاخِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَا كَانَتْ لَنَا مَنَاخِلُ , قِيلَ لَهُ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِالشَّعِيرِ؟ قَالَ: نَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَ" .
حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے قبل اپنی آنکھوں سے میدے کو دیکھا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے کبھی میدے کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ اللہ سے جا ملے سائل نے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں کے پاس عہد نبوت میں چھلنیاں ہوتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا ہمارے پاس چھلنیاں نہیں تھیں سائل نے پوچھا پھر آپ لوگ جو کے ساتھ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم اسے پھونکیں مارتے تھے جتنا اڑنا ہوتا تھا وہ اڑ جاتا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22814]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
الرواة الحديث:
سلمة بن دينار الأعرج ← سهل بن سعد الساعدي