مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1033. أحاديث رجال من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 23087
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ قُرْمٍ ، عَنِ الْأَشْعَثِ ، عَنْ عَمَّتِهِ رُهْمٍ ، عَنْ عُبيْدَةَ بنِ خَلَفٍ ، قَالَ: قدمت المدينة وَأَنَا شَاب مُتَأَزِّرٌ ببرْدَةٍ لِي مَلْحَاءَ أَجُرُّهَا، فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ فَغَمَزَنِي بمِخْصَرَةٍ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَا لَوْ رَفَعْتَ ثَوْبكَ كَانَ أَبقَى وَأَنْقَى"، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هِيَ برْدَةٌ مَلْحَاءُ، قَالَ:" وَإِنْ كَانَتْ برْدَةً مَلْحَاءَ، أَمَا لَكَ فِي أُسْوَتِي؟" , فَنَظَرْتُ إِلَى إِزَارِهِ، فَإِذَا فَوْقَ الْكَعْبيْنِ وَتَحْتَ الْعَضَلَةِ .
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں " ذوالمجاز " کے بازار میں تھا میں نے سرخ وسفید رنگ کی ایک خوبصورت چادر اپنے جسم پر پہن رکھی تھی اچانک ایک آدمی نے اپنی چھڑی مجھے چھبو کر کہا کہ اپنا تہبند اوپر کرو کیونکہ اس سے کپڑا دیر تک ساتھ دیتا ہے اور صاف رہتا ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ خوبصورت چادر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ خوبصورت ہو کیا تمہارے لئے میری ذات میں نمونہ نہیں ہے؟ اور میں نے غور کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تہبند نصف پنڈلی تک تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23087]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف سليمان بن قرم وجهالة عمة الأشعث
الرواة الحديث:
رهم بنت الأسود بن خالد ← عبيدة بن خلف المحاربي