مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1036. حديث رجل رضي الله عنه
حدیث نمبر: 23202
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بنِي يَرْبوعَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ يَقُولُ: " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، أُمَّكَ وَأَباكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ فأَدْنَاكَ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بنُو ثَعْلَبةَ بنِ يَرْبوعَ الَّذِينَ أَصَابوا فُلَانًا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى" .
بنو یربوع کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں سے گفتگو کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا کہ دینے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے اپنی ماں، باپ بہن، بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں پر خرچ کیا کرو ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! بنوثعلبہ بن یربوع ہیں انہوں نے فلاں آدمی کو قتل کردیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے کے جرم کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23202]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
سليم بن أسود المحاربي ← اسم مبهم