مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1036. حديث رجل رضي الله عنه
حدیث نمبر: 23209
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عُبيْدُ اللَّهِ بنُ أَبي جَعْفَرٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بنِ الْحَسَنِ بنِ عَمْرِو بنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، قَالُ: سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَدَّثُونَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أُعْتِقَتْ الْأَمَةُ وَهِيَ تَحْتَ الْعَبدِ، فَأَمْرُهَا بيَدِهَا، فَإِنْ هِيَ أَقَرَّتْ حَتَّى يَطَأَهَا، فَهِيَ امْرَأَتُهُ لَا تَسْتَطِيعُ فِرَاقَهُ" .
چند صحابہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کسی باندی کو آزادی کا پروانہ مل جائے تو اسے اختیارمل جاتا ہے بشرطیکہ اس نے اس کے ساتھ ہمبستری نہ کی ہو " کہ اگر چاہے تو اپنے شوہر سے جدائی اختیار کرلے اور اگر وہ اس سے ہمبستری کر چکاہو تو پھر اسے یہ اختیار نہیں رہتا اور وہ اس سے جدا نہیں ہوسکتی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23209]
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، سمع الحسن بن موسي من ابن لهيعة بعد احتراق كتبه، لكنه توبع
الرواة الحديث:
الفضل بن الحسن الضمري ← اسم مبهم