مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2321
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ دَاوُدَ عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ: أَلَمْ أَنْهَكَ , فَانْتَهَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ: لِمَ تَنْتَهِرُنِي يَا مُحَمَّدُ؟ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِهَا رَجُلٌ أَكْثَرُ نَادِيًا مِنِّي , قَالَ: فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سورة العلق آية 17 , قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ , لَأَخَذَتْهُ زَبَانِيَةُ الْعَذَابِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور کہنے لگا: کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑک دیا، وہ کہنے لگا: محمد! تم مجھے جھڑک رہے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ اس پورے شہر میں مجھ سے بڑی مجلس کسی کی نہیں ہوتی؟ اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ آیت لے کر اترے: « ﴿فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ﴾ [العلق: 17] » ”اسے چاہئے وہ اپنی مجلس والوں کو بلا لے“، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو اسے عذاب کے فرشتے ”زبانیہ“ پکڑ لیتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2321]
حکم دارالسلام: إسناده قوي
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 2321 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي