مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23399
حَدَّثَنَا خَلَفُ بنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بنُ الْمُسَيَّب ، عَنْ عَمْرِو بنِ مُرَّةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَلَمَّا كَبرَ قَالَ: " اللَّهُ أَكْبرُ، ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبرُوتِ، وَالْكِبرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ"، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ، ثُمَّ عِمْرَانَ، لَا يَمُرُّ بآيَةِ تَخْوِيفٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا، ثُمَّ رَكَعَ يَقُولُ:" سُبحَانَ رَبيَ الْعَظِيمِ"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبنَا لَكَ الْحَمْدُ"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ سَجَدَ، يَقُولُ:" سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" رَب اغْفِرْ لِي"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ سَجَدَ يَقُولُ:" سُبحَانَ رَبيَ الْأَعْلَى"، مِثْلَ مَا كَانَ قَائِمًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ فَمَا صَلَّى إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى جَاءَ بلَالٌ فَآذَنَهُ بالصَّلَاةِ .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ شروع کردی جب سو آیات پر پہنچے تو میں نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ دو سو آیات تک پہنچ گئے میں نے سوچا کہ شاید اب رکوع کریں گے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے حتی کہ اسے ختم کرلیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نساء شروع کرلی اور اسے پڑھ کر رکوع کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہتے رہے اور رحمت کی جس آیت پر گذرتے وہاں رک کر دعا مانگتے اور عذاب کی جس آیت پر گذرتے تو وہاں رک کر اس سے پناہ مانگتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23399]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة طلحة بن يزيد، ولم يسمع هذا الحديث من حذيفة
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 23399 in Urdu
طلحة بن يزيد الأنصاري ← حذيفة بن اليمان العبسي