علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حديث حذيفة بن اليمان عن النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 23464
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ أَبى زِيَادٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ بالْمَدَائِنِ، فَاسْتَسْقَى، فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بإِنَاءٍ، فَرَمَاهُ بهِ مَا يَأْلُو أَنْ يُصِيب بهِ وَجْهَهُ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي تَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، لَمْ أَفْعَلْ به هَذَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَشْرَب فِي آنِيَةِ الذَّهَب وَالْفِضَّةِ، وَأَنْ نَلْبسَ الْحَرِيرَ وَالدِّيباجَ، قَالَ: " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا، وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ" ، هَذَا آخِرُ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
عبدالرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک دیہات کی طرف نکلا انہوں نے پانی منگوایا تو ایک کسان چاندی کے برتن میں پانی لے کر آیا حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن اس کے منہ پردے مارا ہم نے ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ اگر ہم ان سے پوچھتے تو وہ کبھی اس کے متعلق ہم سے بیان نہ کرتے چناچہ ہم خاموش رہے کچھ دیر بعد انہوں نے خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں نے یہ برتن اس کے چہرے پر کیوں مارا؟ ہم نے عرض کیا نہیں فرمایا کہ میں نے اسے پہلے بھی منع کیا تھا (لیکن یہ باز نہیں آیا) پھر انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے برتن میں کچھ نہ پیا کرو ریشم و دیبا مت پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور آخرت میں تمہارے لئے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23464]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5632، م: 2067، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم ويزيد بن أبى زياد، وقد توبعا
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 23464 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← حذيفة بن اليمان العبسي