مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2361
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُس ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا أَعْمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ إِلَّا قَطْعًا لِأَمْرِ أَهْلِ الشِّرْكِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ، وَعَفَا الْأَثَرْ، وَدَخَلَ صَفَرْ، فَقَدْ حَلَّتْ الْعُمْرَةُ لِمَنْ اعْتَمَرْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ» کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو صرف اس لئے عمرہ کروایا تھا کہ مشرکین کے اس خیال کی بیخ کنی فرما دیں جو کہتے تھے کہ جب اونٹنی کی کمر صحیح ہو جائے، حاجیوں کے نشانات قدم مٹ چکیں اور صفر کا مہینہ ختم ہو جائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ کرنا حلال ہو جاتا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2361]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 2361 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي