مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1135. حديث عوف بن مالك الأشجعي الأنصاري رضي الله عنه
حدیث نمبر: 23972
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، قَالَ: دَخَلَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ هُوَ وَذُو الْكَلَاعِ مَسْجِدَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ لَهُ عَوْفٌ: عِنْدَكَ ابْنُ عَمِّكَ، فَقَالَ ذُو الْكَلَاعِ: أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ أَوْ مِنْ أَصْلَحِ النَّاسِ، فَقَالَ عَوْفٌ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُتَكَلِّفٌ" .
ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور ذوالکلاع مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کے پاس تو آپ کا بھتیجا (کعب احبار) ہے ذوالکلاع نے کہا کہ وہ تمام لوگوں میں سب سے بہترین آدمی ہے حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23972]
حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده
الرواة الحديث:
بكير بن عبد الله القرشي ← عوف بن مالك الأشجعي