مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1170. حديث السيدة عائشة رضي الله عنها الفهرس الفرعى
حدیث نمبر: 24160
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ، فَقَالَتْ: يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ، أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ؟! " لَقَدْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فَمَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ" .
عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت عبدللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ جب وہ غسل کریں تو سر کے بال کھول لیا کریں، انہوں نے فرمایا عبداللہ بن عمرو پر تعجب ہے کہ وہ عورتوں کو غسل کرتے وقت سر کے بال کھولنے کا حکم دیتے ہیں، وہ انہیں سر منڈوا دینے کا حکم کیوں نہیں دیتے؟ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل کرتے تھے، میں اپنے سر پر تین مرتبہ سے زیادہ پانی نہیں ڈالتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24160]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 331
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عبيد بن عمير الجندعي، أبو عاصم عبيد بن عمير الجندعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← عبيد بن عمير الجندعي | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← محمد بن مسلم القرشي | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر إسماعيل بن علية الأسدي ← أيوب السختياني | ثقة حجة حافظ |
عبيد بن عمير الجندعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق