الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1170. حديث السيدة عائشة رضي الله عنها الفهرس الفرعى
حدیث نمبر: 24359
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونٍ الصَّائِغِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: " أَلَيْسَ هُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَأَخَوَاتِكُمْ وَعَمَّاتِكُمْ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور وہ ان کے سامنے عرض میں لیٹی ہوتی تھیں اور فرماتے تھے کہ جن عورتوں کے سامنے تم نماز پڑھتے ہو، کیا وہ تمہاری مائیں، بہنیں اور پھوپھیاں نہیں ہوتیں؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24359]
حکم دارالسلام: إسناده حسن من أجل إبراهيم بن ميمون الصائغ وجملة: صلى وهى معترضة بين يديه صحيحة
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق