مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2445
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْمَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ:" رَأَيْتُ فِي سَيْفِي ذِي الْفَقَارِ فَلًّا، فَأَوَّلْتُهُ، فَلًّا يَكُونُ فِيكُمْ، وَرَأَيْتُ أَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُهُ، كَبْشَ الْكَتِيبَةِ، وَرَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ، فَأَوَّلْتُهَا: الْمَدِينَةَ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ" , فَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار - جس کا نام ذوالفقار تھا - غزوہ بدر کے دن (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو) بطور انعام کے عطا فرمائی تھی، یہ وہی تلوار تھی جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر خواب دیکھا تھا اور فرمایا تھا کہ ”میں نے اپنی تلوار ذوالفقار میں کچھ شکستگی کے آثار دیکھے، جس کی تعبیر میں نے یہ لی کہ تمہارے اندر شکستگی کے آثار ہوں گے، نیز میں نے دیکھا کہ میں اپنے پیچھے ایک مینڈھے کو سوار کئے ہوئے ہوں، میں نے اس کی تعبیر لشکر کے مینڈھے سے کی ہے، پھر میں نے اپنے آپ کو ایک مضبوط قلعے میں دیکھا جس کی تاویل میں نے مدینہ منورہ سے کی، نیز میں نے ایک گائے کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھا، واللہ! گائے خیر ہے، واللہ! گائے خیر ہے۔“ چنانچہ ایساہی ہوا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2445]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
الرواة الحديث:
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي